میں نے یہاں بزمی صاحب، نیاز احمد صاحب اور خلیل احمد صاحب کی دھنوں میں غزلیں record کروائی ہیں اور بہت کچھ سیکھا ہے فنکار جو بھی گائے اُسے light, classical سے واقفیت ضرور ہونی چاہیے مدھ ماتی پون لہرائے ہائے، ہائے، مدھ ماتی پون لہرائے جگ بھر سے کہنے جائے مورے آنگن کوئی آئے کوئی دور دور سے آئے مدھ ماتی پون لہرائے ہائے، ہائے، مدھ ماتی پون لہرائے سات سنگھار سہاگن کے آنچل سے بندھے مجھے سونپ گئی سات سنگھار سہاگن کے آنچل سے بندھے مجھے سونپ گئی چلتے چلتے میرے کانوں میں یہ کیسا امرت گھول گئی میں چھپتی پھروں ستاروں سے مجھے آئے لاج بہاروں سے میں جو بھی نہ کہنے پاؤں، سکھی مورا انگ انگ کہہ جائے مدھ ماتی پون لہرائے ہائے، ہائے، مدھ ماتی پون لہرائے جگ بھر سے کہنے جائے مورے آنگن کوئی آئے کوئی دور دور سے آئے مدھ ماتی پون لہرائے ہائے، ہائے، مدھ ماتی پون لہرائے پیاسی جو رہوں تو پربت کے سینے سے دریا پھوٹ بہے پیاسی جو رہوں تو پربت کے سینے سے دریا پھوٹ بہے پل بھر آکاش کو تک لوں تو بجلی چمکے، بادل برسے تھک جاؤں تو سورج رتھ روکے سو جاؤں چندرما لوری دے میں سوکھے پیڑ تلے بیٹھوں وہ ہرا بھرا ہو جائے مدھ ماتی پون لہرائے ہائے، ہائے، مدھ ماتی پون لہرائے جگ بھر سے کہنے جائے مورے آنگن کوئی آئے کوئی دور دور سے آئے مدھ ماتی پون لہرائے ہائے، ہائے، مدھ ماتی پون لہرائے